چودہ فیصد متاثرین واپس چلے گئے:یو این
وادی سوات سے تعلق رکھنے والے مالاکنڈ آپریشن کے متاثرین کی واپسی کا سلسلہ ایک دن کے تعطل کے بعد دوبارہ شروع ہو گیا ہے جبکہ اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے صوبہ سرحد میں اندرونی نقل مکانی سے متاثرہ تین لاکھ چوبیس ہزار افراد اپنے گھروں کو واپس جا چکے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق جمعہ کو مردان کے کیمپوں میں رہائش پذیر خاندان اپنے گھروں کو روانہ ہوئے ہیں جبکہ اپنے رشتہ داروں کے ہاں رہائش پذیر متاثرین بھی اپنی مدد آپ کے تحت اپنے گھروں کو جا رہے ہیں۔
ادھر نیویارک میں سیکرٹری جنرل بان کی مون کی ترجمان نے میڈیا کو معمول کی بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ کے رابطہ کار دفتر برائے انسانی معاملات کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان کے شورش زدہ صوبہ سرحد میں اندرونی نقل مکانی سے متاثرہ تین لاکھ چوبیس ہزار افراد گذشتہ اتوار تک اپنے گھروں کو واپس جا چکے ہیں جو کہ اندرونی نقل مکانی کرنے والے بائيس لاکھ ساٹھ ہزار متاثرین کا مجموعی طور چودہ فیصد ہے۔
نیویارک میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار حسن مجتبٰی کے مطابق ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ اندرونی نقل مکانی سے واپس اپنے گھروں کو لوٹنے والے افراد اور شورش زدہ علاقوں میں رہ جانے والی آبادی کے لوگوں کی ابتدائي ضروریات کا اندازہ لگانے کا کام آئندہ سنیچر سے شروع کیا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ اور اس کے اداروں کا کام اپنے گھروں کو واپس آنیوالے لوگوں کی بحالیء و امداد کی بنیاد اس طرح ڈالنا ہے کہ جیسے ان لوگوں کی زندگياں شورش شروع ہونے سے قبل سے بھی بہتر ہو سکیں۔
ترجمان نے بتایا کہ اب تک لگائے گئے تخمینوں کے مطابق ، ان افراد کی ابتدائي ضروریات مناسب طور پر پوری کرنے کے لیے چوّن کروڑ تیس لاکھ ڈالر درکار ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اب تک بین الاقوامی برادری کی طرف سے آٹھ کروڑ پچاسی لاکھ ڈالر فراہم کیے جا چکے ہیں یا دیے جانے کا وعدہ کیا گیا ہے جبکہ اب سے لیکر سال رواں دو ہزار نو کے آخر تک پندرہ لاکھ لوگوں کی انسانی امداد کیلیے پینتالیس کروڑ چالیس لاکھ ڈالر درکار ہونگے۔
واضح رہے کہ پاکستانی حکام نے جمعرات کو انتظامی صورتحال بہتر نہ ہونے کی وجہ سے ایک دن کےلیے موخر کی تھی تاہم ضلع بونیر کے متاثرین کی رضاکارانہ واپسی کا سلسلہ جاری رہا تھا۔ پشاور میں ایمرجنسی رسپانس یونٹ کے ترجمان عدنان خان نے بی بی سی کو یہ بھی بتایا تھا کہ اب تک تین پناہ گزین کیمپ متاثرین سے مکمل طور پر خالی کروا کر بند کر دیےگئے ہیں جن میں شیخ شہزاد، شیخ یاسین اور مزدور آباد تخت بھائی کیمپ شامل ہیں۔



del.icio.us
Digg


Comments (0 posted):
Post your comment