سپریم کورٹ:مشرف کی تیاری
پاکستان کے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی حکومت میں اٹارنی جنرل ملک عبدالقیوم نے کہا ہے کہ ان کے سابق مؤکل عدالت عظمیٰ کی جانب سے ملنے والے نوٹس کے جواب میں اسی عدالت کے وجود کو چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ملک قیوم کے مطابق وہ اس ’ کام‘ میں سابق صدر کا ساتھ نہیں دیں گے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ملک قیوم نے کہا کہ پرویز مشرف نے ان سے وکلاء کے اس پینل کا حصہ بننے کی درخواست کی ہے۔
’ لیکن ان کے مؤقف کا جو مرکزی نکتہ ہے میں اس سے متفق نہیں ہوں لہذا اگر وہ اسی مؤقف کے ساتھ عدالت میں آئے تو وہ پرویز مشرف کا ساتھ نہیں دیں گے۔‘
انہوں نے وضاحت کی کہ سابق صدر کا کہنا ہے کہ وہ موجود سپریم کورٹ کے وجود کو غیر آئینی سمجھتے ہیں اور اسی نکتے کی بنیاد پر وہ عدالت کے سامنے اپنے وکلاء کے ذریعے جائیں گے لیکن اپنی صفائی کے بجائے اس مبینہ ’ آئینی خلاف ورزی‘ کو بنیاد بنا کر اپنا مقدمہ لڑیں گے۔
دریں اثناء سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے ’آج‘ ٹی وی کو ایک انٹرویو کے دوران توقع ظاہر کی ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سے انہیں ’انصاف‘ ملے گا۔
اتوار کی شام کو نشر ہونے والے اس انٹرویو کی جھلکیاں جاری کی گئی ہیں جن میں سابق صدر سے سوال پوچھا گیا ہے کہ ’اب کیا ہو گا؟’ ذرا سے توقف کے بعد پرویز مشرف کہتے ہیں’ویل، میں توقع کرتا ہوں کہ عدالت میں میرے ساتھ انصاف ہو گا‘۔
ملک قیوم نے کہا کہ پرویز مشرف کو وکیل حفیظ پیرزادہ کے ساتھ مشاورت کے لیے انہوں نے ہی کہا تھا لیکن لندن میں ابتدائی مشاروت کے بعد جو مؤقف اختیار کرنے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے اس کے تباہ کن نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
’اٹارنی جنرل کے طور پر میرا مؤقف یہی تھا کہ تین نومبر کے بعد اصل عدلیہ جسٹس ڈوگر والی تھی لیکن حکمرانوں نے عوامی مرضی کے مطابق سابق عدلیہ کو بحال کر دیا ہے بہتر یہی ہے کہ اب اس مسئلے پر خاموشی اختیار کر لی جائے۔‘
اس سوال پر کہ کیا وہ اپنے اس سابقہ مؤقف کو غلط سمجھتے ہیں؟ ملک قیوم نے کہا کہ ایسا نہیں ہے ’وقت گزرنے کے ساتھ حقیقت بدل نہیں جاتی۔ بات صرف یہ ہے کہ عدالت نے میرا مؤقف پہلے بھی نہیں مانا اور اب بھی اسے غلط قرار دے گی۔ اس لیے میں اس تنازعے میں دوبارہ نہیں الجھنا چاہتا۔‘
سابق اٹارنی جنرل نے کہا کہ پرویز مشرف کے اس قانونی مؤقف کے باعث ایک نیا عدالتی تنازعہ کھڑا ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ابھی پرویز مشرف کی قانونی ٹیم کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا لیکن سابق وزیرقانون حفیظ پیرزادہ اور سابق نگران وفاقی وزیر بیرسٹر سیف علی اسی سلسلے میں مشاورت کے لیے لندن میں موجود ہیں۔
واضح رہے کہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں چودہ رکنی بنچ نے تین نومبر کی ایمرجنسی لگانے کے اپنے اقدامات کا دفاع کرنے کے لیے سابق فوجی سربراہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو انتیس جولائی کو اپنا مؤقف عدالت میں پیش کرنے کی دعوت دی ہے۔



del.icio.us
Digg


Comments (12 posted):
Mohammed Ali BAIG (INDIA)
Economist
Turkish Translator
Hockey Player
---------- note : Gen Made only one mistake in Life (he did not meet well wisher of Pakistan during his visits to India/ but met Anarkali and dacoits only.....we really disappointed
perhaps there may be more parties involved in these events besides musharraf and nawaz
Its true if you want success you must pay for that and that he did to put Pakistan on the way of success but success is not easy its very hard that we can not bear…
Haji Ajmal
Dubai U A E
From
Post your comment