Home | اھم خبریں | راہِ نجات:منظم،جامع کارروائی کا فقدان

راہِ نجات:منظم،جامع کارروائی کا فقدان

Font size: Decrease font Enlarge font
image

صوبہ سرحد کے مالاکنڈ ڈویژن میں گزشتہ دو ماہ سے جاری فوجی آپریشن بقول فوجی حکام حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے تاہم ہنوز ہلاکتوں اور حملوں کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ حکومت وزیرستان میں ایک نیا محاذ کھولنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ اور اگر وہ ایسا کرتی ہے تو اسے سوات کی نسبت کن مختلف یا مماثلت رکھنے والے حالات کا سامنا وزیرستان میں ہوسکتا ہے۔

صدر آصف علی زرداری سے لے کر فوجی ترجمان تک سب یہ کہہ چکے ہیں کہ دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کے لیے انہیں اگر وزیرستان دوبارہ جانا پڑے تو ضرور جائیں گے۔

اس بابت گورنر سرحد اویس غنی نے ’راہِ نجات‘ کے نام سے کارروائی کے آغاز کا گزشتہ دنوں اعلان کیا لیکن اب تک سکیورٹی فورسز کی طرف سے شدت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں پر نیم دلانہ اکا دکا حملوں کی تو خبریں ہیں لیکن ایک منظم اور جامع کارروائی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔

عسکری ماہرین کے مطابق پاکستانی سکیورٹی فورسز اس وقت کافی وسیع علاقے میں پھیلی ہوئی ہیں۔ امریکی دباؤ کی وجہ سے وہ طویل افغان سرحد پر نظر بھی رکھے ہوئی ہیں تو دوسری جانب اکثر قبائلی علاقوں وہ شدت پسندوں کے خلاف حالتِ جنگ میں بھی ہے اور اس کے علاوہ اسے مالاکنڈ جیسے بندوبستی علاقوں میں بھی کارروائیاں کرنی پڑ رہی ہیں۔

سابق فوجی اور سیکرٹری سکیورٹی فاٹا بریگیڈئر (ر) محمود شاہ کا کہنا تھا کہ چونکہ سوات آپریشن اب بقول فوج آخری مراحل میں ہے تو اس کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ وہاں نفری کم کر کے وزیرستان میں تعینات کر سکیں گے۔ 'شدت پسندوں والے علاقے کم رہ گئے ہیں۔ اس لیے اب اضافی فوج دوسرے جانب روانہ کی جا سکتی ہے'۔

پاکستانی سکیورٹی اداروں کے لیے کارروائی کے اعتبار سے سوات قدرے نیا ہے وزیرستان نہیں۔ وہاں سن دو ہزار دو سے دو ہزار سات تک فوج شدت پسندوں کے خلاف ایک ایک راونڈ کر چکی ہے لہذا وہاں سے واقف ہے۔ تو فوجی کارروائی کے اعتبار سے کیا سوات مشکل ہے یا وزیرستان؟

بریگیڈئر (ر) محمود شاہ کے مطابق دونوں کی اپنی اپنی خصوصیات ہیں۔ 'سوات میں آبادی زیادہ ہے اورگنجان آْباد شہری علاقے ہیں۔ اس خطے میں جنگلات بھی زیادہ ہیں جہاں دشمن کو ہدف بنانا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں وزیرستان میں جنگلات اتنے نہیں ہیں۔ وہاں چونکہ زراعت اتنی نہیں ہے لہذا وہاں شدت پسندوں کا محاصرہ بھی کیا جاسکتا ہے جس سے ان کے لیے خوراک کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے'۔

وزیرستان میں کھلے میدان اور خشک پہاڑ اگر شدت پسندوں کو چھپنے میں مدد نہیں دیتے تو وہاں شدت پسند فوج کو بھی باآسانی نشانہ بناسکتے ہیں۔ خشک علاقہ ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں فوج کے لیے پانی اور دیگر اشیاء ضرورت کی مسلسل رسد بھی ایک مسئلہ ہو سکتی ہے لیکن عسکری ماہرین کے مطابق سب سے زیادہ خطرنک عنصر وزیرستان کا وہاں مقامی شدت پسندوں کی مرکزی قیادت، غیرملکی جنگجو اور القاعدہ کی موجودگی ہے۔

بریگیڈئر (ر) محمود شاہ کے مطابق ان عناصر کی موجودگی میں کسی ایک شدت پسند کے خلاف کارروائی مشکل ہوجاتی ہے۔'اگر بیت اللہ محسود کے خلاف کارروائی کریں تو انہیں ملا نذیر یا حاظ گل بہادر سے علیحدہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے'۔

اب تک کی مالاکنڈ کارروائی میں بعض تجزیہ نگاروں کو ایک خامی شدت پسندوں کو ایک مقام پر محدود کرنے اور وہاں ان کا محاصرہ کرنے میں ناکامی دکھائی دے رہی ہے۔ وزیرستان آپریشن کے بارے میں اتنے سرکاری بیانات سامنے آچکے ہیں کہ ان سے حکومت کی خواہش کا اظہار ہو چکا ہے۔ اس کا فائدہ اٹھا کر خیال ہے کہ شدت پسندوں کی مرکزی قیادت وہاں سے پہلے ہی محفوظ مقامات پر پہنچ چکے ہوں گے۔

پروفیسر خادم حسین کہتے ہیں کہ انہیں فوجی کارروائی کے دوران ایسی کوئی سٹریٹجی دکھائی نہیں دے رہی کہ فوج نے انہیں ایک جگہ میں پھنسا لیا ہو۔ اس کے علاوہ پروفیسر خادم حسین کو دو دیگر مسائل بھی دکھائی دے رہے ہیں جن کا منفی اثر وزیرستان میں مستقبل کی کارروائی پر پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگی علاقے سے انخلاء کرنے والوں کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے سے عوامی حمایت پر اثر پڑ سکتا ہے۔ ’اگر عام لوگ اور سول سوسائٹی مالاکنڈ سے انخلا کرنے والے بائیس لاکھ میں سے اٹھارہ لاکھ کا اپنے گھروں میں انتظام نہ کرتے تو حالات آج کچھ اور ہوسکتے تھے‘۔

ان کے نزدیک تیسرا اہم عنصر جو اب تک نظر انداز ہوا ہے وہ شدت پسندوں کے مذہبی جماعتوں، فلاحی تنظیموں، نوکر شاہی میں نیٹ ورکنگ کے خاتمے میں ناکامی ہے۔’یہ جتنے فرنٹ کھولتے جائیں گے اتنا سیاسی بحران بڑھتا جائے گا۔ اس بحران کو جامع طور پر ڈیل کرنے کے لیے سیاسی قیادت کے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے‘۔

مالاکنڈ کارروائی کے بارے میں پہلی مرتبہ حکومت کو عوامی سطح پر اکثریت کی حمایت حاصل تھی۔ کیا یہ حمایت وزیرستان کے حد تک جاری رہے گی یا اس میں کمی بیشی آسکتی ہے؟ پروفیسر خادم حسین کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں سب سے بڑا اور اہم مسئلہ عوامی حمایت کا ہی ہوگا۔ ’وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں تھکاوٹ کا عنصر آہستہ آہستہ واضح ہوتا جا رہا ہے۔ اگر وزیرستان میں بھی آرٹلری اور فضائی طاقت کا استعمال ہوتا ہے اور لوگ وہاں سے نکل نہیں پاتے ہیں تو وہاں لاوا اُبل سکتا ہے۔ یہ لاوا کہاں جائے گا؟‘

ماضی میں شدت پسندوں کے خلاف وزیرستان میں کارروائیاں ہوچکی ہیں جن میں فریقین کا سینکڑوں میں جانی نقصان ہوا۔ لیکن بعض مبصرین کے مطابق دو ہزار چار کے بعد وہاں کارروائیاں نیم دلی سے کی گئیں۔ محمود شاہ کہتے ہیں کہ ’بعض اوقات مذاکرات اور بعض اوقات جنگ بندی کر لی گئی جس سے حکومت کی کارروائی تحلیل ہوگئی۔ اس مرتبہ فوج کو پورے زور سے جانا چاہیے تاہم اس بات کا خدشہ رہے گا کہ اس مرتبہ بھی وہاں دونوں جانب جانی نقصان کافی زیادہ ہوسکتا ہے‘۔

مالاکنڈ کے مقابلے میں وزیرستان میں ایک اور اہم عنصر امریکی ڈرون حملے بھی ہیں۔ بعض ذرائع کے مطابق امریکہ نے پاکستان کو سوات میں بھی اس 'مدد' کی پیشکش کی تھی تاہم اسلام آباد نے اس سے انکار کر دیا تھا کہ اس سے اس کارروائی پر امریکی سرپرستی کا دھبہ لگ جائے گا۔

محمود شاہ کہتے ہیں کہ ڈرون حملے وزیرستان میں بھی فائدہ مند ثابت نہیں ہوں گے۔ ’جونہی کسی بات میں امریکہ شامل ہوجاتا ہے تو وہ یہاں عوام میں غیرمقبول ہوجاتی ہے۔ وزیرستان کی کارروائی کو بھی نظر آنا چاہیے کہ یہ مکمل طور پر پاکستانی کارروائی مقامی وجوہات کی بنا پر ہے‘۔ پاکستان حکومت اور فوج کو وزیرستان میں شدت پسندوں کے خاتمے کے لیے مصمم ارادہ ظاہر کرنا اور پھر اسے عملی جامع پہنانا ہوگا۔ تاہم مالاکنڈ کارروائی میں مزید طوالت اور نقل مکانی کرنے والوں کی بڑھتی مشکلات وزیرستان تک اس کارروائی کو پھیلانے میں عوامی حمایت کو متاثر کرسکتی ہے۔

Comments (0 posted):

Post your comment comment

Please enter the code you see in the image:

  • email Email to a friend
  • print Print version
  • Plain text Plain text

 Article vote
3.33

 Related news