درآمدی تیل کی ادائیگی اوپن مارکےٹ سے انٹربینک مارکیٹ کو منتقل کردی ،مہنگائی میں اضافے کی شرح 12 فیصد رہنے کی توقع ہے
31 January, 2010 11:13:00
Font size:
کراچیٜ گورنر سٹیٹ بینک سید سلیم رضا پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں
کراچی ٟآن لائنٞاسٹیٹ بینک آف پاکستان نے افراط زر پر قابو پانے کے لئے بنےادی شرح سود بغیر کسی تبدیلی کے 12.5 فیصد پر برقراررکھنے کا اعلان کےا ہے جبکہ اسٹیٹ بینک نے درآمدی تیل کی ادائیگی اوپن مارکےٹ سے انٹربینک مارکیٹ کو منتقل کردی ہے ۔ رواں مالی سال کی چوتھی مانیٹری پالیسی کا اعلان گورنر اسٹیٹ بینک سلیم رضانے ہفتے کے روز مرکزی بےنک مےں کیا۔گورنر اسٹیٹ بینک سےد سلےم رضا نے کہا کہ رواں مالی سال مہنگائی میں اضافے کی شرح 11سے12 بارہ فیصد رہنے کے توقع ہے جبکہ پچھلے سال مہنگائی مےں اضافہ 21فےصد رہا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں کموڈٹی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث افراط زر میں اضافہ ہوا،توازن کی ٟ ادائیگی میں بہتری آرہی ہے،مقامی طلب میں کمی کی وجہ سے درآمدات میں کمی آئی،توازن ادائیگی کا انحصار بیرونی امداد پر ہے،تجارتی خسارے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی آئی۔انہوں نے کہا کہ ملکی معاشی اشاریئے بہتری کی طرف اشارہ دے رہے ہیں،حکومتی قرضوں سے مارکیٹ لکویڈٹی دباؤکاشکار ہے،بجٹ خسارہ بڑھنے کے باعث حکومت کو بےنکوں سے زےادہ قرض لےنا پڑےگا جبکہ حکومت کو ترقےاتی بجٹ مےں کمی بھی کرنی پڑھ سکتی ہے۔بڑے پیمانے کی اشیا سازی میں نمو کے موجودہ رجحان کے پیش نظر مالی سال 10ئ میں مجموعی حقیقی جی ڈی پی نمو 3 سے 3.5 فیصد رہنے کی توقع ہے جبکہ مالی سال 09ئ میں 2 فیصد رہی تھی۔انہو ں نے کہا کہمجموعی معاشی استحکام تیزی سے آیا ہے۔ اس کا اظہار اوسط گرانی بلحاظ صارف اشاریہ قیمت میں نمایاں کمی سے ہوتا ہے، جو زری پالیسی کا بنیادی مقصد ہے۔ رواں مالی سال 2009-10 ٟFY10ٞ کی پہلی ششماہی میں یہ گرانی 10.3 فیصد رہی جبکہ مالی سال 09ئ کی پہلی ششماہی کے دوران 24.4 فیصد تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمی صارف اشاریہ قیمت کے تقریباً تمام ذیلی گرپوں میں نظر آتی ہے۔ پورے مالی سال 10ئ کے دوران گرانی کے امکانات کا دارومدار مالیاتی استحکام کی کوششوں اور اجناس کی عالمی قیمتوں کے نمودار ہوتے ہوئے دبا¶ پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کو توقع ہے کہ مالی سال 10ئ کے دوران اوسط گرانی بلحاظ صارف اشاریہ قیمت 11 سے 12 فیصد کے درمیان رہے گی، جو گذشتہ سال کی 20.8 فیصد گرانی سے کافی کم ہے لیکن مالی سال 10ئ کی پہلی ششماہی میں ریکارڈ کی گئی 10.3 فیصد گرانی سے زیادہ ہے۔ریئل اکانومی کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے سلیم رضا نے کہا کہ شعبہ زراعت میں کچھ بہتری دکھائی دے رہی ہے، زائد قیمتوں کے ساتھ گندم کی اچھی فصل سے اشیائے صرف کی طلب کو تقویت مل رہی ہے اور کپاس کی فصل پچھلے سال سے اچھی ہے اور اس کے اثرات ٹیکسٹائل اور اس کی برآمدات تک پھیل رہے ہیں۔ بڑے پیمانے کی اشیا سازی میں معمولی لیکن مسلسل بحالی بھی حوصلہ افزا ہے۔ نومبر 2009ئ میں یہ 0.7 فیصد بڑھ گئی جبکہ مارچ 2009ئ میں منفی 20 فیصد تک گر گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کے قرضے میں تیزی اور توقع سے بڑھ کر عالمی معاشی بحالی کے بعد تجارتی شراکت دار ممالک کی جانب سے برآمدات کی طلب میں اضافے سے ملکی معاشی سرگرمیوں کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔گورنر، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا کہ بڑے پیمانے کی اشیا سازی میں نمو کے موجودہ رجحان کے پیش نظر مالی سال 10ئ میں مجموعی حقیقی جی ڈی پی نمو 3 سے 3.5 فیصد رہنے کی توقع ہے جبکہ مالی سال 09ئ میں 2 فیصد رہی تھی۔انہوں نے کہا کہ بیرونی شعبے میں پیش رفت بھی حوصلہ افزا ہے۔ بیرونی جاری حسابات کا خسارہ بھی مالی سال 09ئ کی پہلی ششماہی میں 7.8 ارب ڈالر سے گھٹ کر مالی سال 10ئ کی پہلی ششماہی کے دوران 2 ارب ڈالر ہوگیا۔ برآمدات میں معمولی کمی کا اثر درآمدات میں نمایاں کمی سے بڑی حد تک زائل ہوا ہے، جس کا نتیجہ تجارتی خسارے میں نمایاں کمی کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارکنوں کی ترسیلات کی بلارکاوٹ آمد نے بھی ٟجو مالی سال 10ئ کی پہلی ششماہی میں 4.5 ارب ڈالر تھیںٞ بیرونی جاری حسابات کے خسارے کو کم کرنے میں مدد دی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پیش گوئیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے توقع ہے کہ مالی سال 10ئ میں بیرونی جاری حسابات کا خسارہ جی ڈی پی کا 3.4 فیصد رہے گا۔ یہ گذشتہ برس کے 5.6 فیصد خسارے اور 5 فیصد خسارے کی پہلے کی جانے والی پیشگوئیوں کے مقابلے میں خاصی بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر نے کہا کہ بیرونی جاری حسابات کے خسارے میں کمی کے نتیجے میں مالی سال 10ئ کی پہلی ششماہی کے دوران مجموعی توازن ادائیگی 1.4 ارب ڈالر فاضل رہا ہے جبکہ مالی سال 09ئ کی پہلی ششماہی میں 4.8 ارب ڈالر کا خسارہ ہوا تھا۔ بیرونی جزدانی سرمایہ کاری میں معتدل اضافے، ایس ڈی آر کے اختصاص اور آئی ایم ایف سے ایس بی اے کی مد میں ملنے والی رقم کی بنا پر بیرونی براہ راست سرمایہ کاری میں کمی کی تلافی ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ ادائیگیوں کے توازن میں مسلسل بہتری کا انحصار بڑی حد تک بیرونی رقوم کی آمد کے اوقات اور اس کی سطح پر ہوگا،خصوصاً ٹوکیو کانفرنس میں فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان کی جانب سے وعدہ کی جانے والی سرکاری رقوم اہمیت کی حامل ہوں گی۔ نظرثانی شدہ فائنانشل انفلوز کے پیش نظر اسٹیٹ بینک کے زر مبادلہ کے ذخائر مالی سال 10ئ کے اختتام تک 15 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔سید سلیم رضا نے کہا کہ مالیاتی حوالے سے حکومت نے اخراجات کو کم کرنے کی کوششیں جاری رکھیں جیسے زر اعانت کا مرحلہ وار خاتمہ اور توانائی کی مقررہ قیمتوں میں ردوبدل۔ حکومت نے ٹیکس کا نظم و نسق اور محاصل کی وصولی کو بہتر بنانے کے لیے بھی ادارہ جاتی اور دیگر اقدامات کیے ہیں۔اسٹیٹ بینک کے گورنر نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے منڈی کو مناسب طور پر چلنے میں مدد دینے اور زری پالیسی موقف سے ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے سیالیت کے حوالے سے اقدامات کیے۔ نتیجے کے طور پر بین البینک شبینہ بازار زر ریپو ریٹ کی تغیر پذیری، جو اسٹیٹ بینک کا عملی ہدف ہے، خاصی کم ہوئی ہے اور پالیسی ریٹ میں کمی کی مطابقت سے منڈی کی شرح سود بتدریج نرم ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ادائیگیوں کے توازن، مالی حسابات اور مختلف شعبوں کو قرضوں کی فراہمی کی پیشگوئیوں اور گرانی اور حقیقی جی ڈی پی کی پیشگوئیوں سے ان کے تعلق کو یکجا کرکے دیکھا جائے تو یہ پیشگوئی کی جاسکتی ہے کہ زر 2 کی نمو مالی سال 10ئ میں 14.5 فیصد کے لگ بھگ رہے گی۔مجموعی معاشی صورتحال کو بیان کرتے ہوئے گورنر، اسٹیٹ بینک سید سلیم رضا نے کہا کہ معیشت اور امن و امان کی دشوار صورتحال کے باوجود معاشی استحکام کے محاذ پر خاصی کامیابی ہوئی ہے۔ گوناگوں ساختی رکاوٹوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے متعدد مشکل فیصلے اور ترامیم متعارف کرائی گئی ہیں، تاہم اس استحکام کو برقرار رکھنے اور پائیدار بحالی کے لیے راستہ ہموار کرنے کے لیے مزید محنت کرنی ہوگی۔۔ ان کا کہنا تھا بین الاقوامی مارکیٹ میں کموڈٹیز کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی کا دباؤ برقرار ہے ۔سلیم رضا نے مزید کہا کہ رواں مالی سال مہنگائی کی اوسط شرح11 سے 12 فیصد رہنے کی توقع ہے جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ21 فیصد تک رہی تھی۔انہوں نے مزید کہاکہ گندم اور کپاس کی پیداوار اچھی ہے اور برآمدات میں بتدریج بہتری آرہی ہے جبکہ زرعی پانی کی کمی پیداوار پر اثرانداز ہورہی ہے ۔سلیم رضا نے کہا کہ برآمدات میں کمی کے اثرات درآمدات میں قابل ذکر کمی کے باعث زائل ہورہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بیرونی امداد توقعات سے کم رہنے کے باوجود رواں کھاتوں کا خسارہ کم ہوا ہے ۔ اوررواں مالی سال یہ3.4 فیصد رہنے کا امکان ہے ۔احباب پاکستان کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کے گورنر کا کہنا تھا کہ احباب پاکستان سے ڈیڑھ ارب ڈالر ملنے کی توقع ہے جبکہ بیرونی امداد یا محصولات میں کمی کی صورت میں4.9 فیصد کا بجٹ خسارے کا ہدف پورا نہیں ہوسکے گا۔ حکومتی قرضوں کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ بجٹ خسارہ زائد رہنے کے باعث حکومت کو بینکوں سے مزید قرض لینا پڑے گا،اور حکومت کو ترقیاتی بجٹ میں بھی کمی کرنی پڑسکتی ہے ۔
Comments (0 posted):
Post your comment